حوزہ نیوز ایجنسی: قرآنِ کریم کا اعجاز محض ماضی کی ایک علمی بحث نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کو غور و فکر، تحقیق اور حقیقت شناسی کی دعوت دینے والا ایک زندہ موضوع ہے۔ ان خیالات کا اظہار عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد کے سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور ممتاز مفسر و محقق پروفیسر محمد مصطفیٰ شریف نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے شعبۂ عربی کے زیرِ اہتمام منعقدہ توسیعی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
لیکچر کا عنوان ’’اعجازِ قرآن کریم کے مختلف علمی جہات‘‘ تھا۔
پروفیسر محمد مصطفیٰ شریف نے قرآنِ کریم کے اعجاز کے مختلف علمی و فکری پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور عصرِ حاضر میں قرآنی علوم کی معنویت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم کو سمجھنے کی کوشش دراصل زبان و ادب کی گہرائیوں میں اترنے، عقل و فکر کو بیدار کرنے اور انسانی زندگی کے مقصد پر غور کرنے کا نام ہے۔
اس علمی نشست میں متعدد ممتاز علمی و ادبی شخصیات کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد، اسکول آف لینگویجز، لسانیات و ہندوستانیات کی ڈین پروفیسر گلفشاں حبیب اور شعبۂ عربی، مانو کے صدر ڈاکٹر سعید بن مخاشن نے شرکت کی۔

پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ جامعات کی اصل علمی قوت صرف ان کی عمارتوں یا نصاب میں نہیں، بلکہ ان علمی مجالس میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے جہاں علم، تجربے اور تحقیق کی روایت نئی نسل تک منتقل ہوتی ہے۔
پروفیسر مصطفیٰ شریف کی علمی و تحقیقی خدمات اور تجربات سے استفادے کے لیے منعقدہ یہ نشست اساتذہ اور طلبہ کے لیے علمی تبادلے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شعبۂ عربی میں اس نوعیت کے توسیعی لیکچرز کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ یونیورسٹی میں زبان و ادب کی تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیقی ذوق، تنقیدی شعور اور علمی مکالمے کے فروغ کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
شعبۂ عربی، مانو کے صدر ڈاکٹر سعید بن مخاشن نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اعجازِ قرآن ہر زمانے میں علمی تحقیق اور فکری بصیرت کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جس نے اپنے اسلوبِ بیان، زبان و ادب، معانی و مفاہیم، نظم و ترتیب اور ہدایت کے جامع نظام کے ذریعے ہر دور کے انسان کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعجازِ قرآن کا مطالعہ محض ایک مذہبی موضوع نہیں، بلکہ اس کا تعلق عربی زبان و ادب، علومِ قرآن، تفسیر، بلاغت اور انسانی فکر و دانش کے متعدد گوشوں سے ہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر آصف لئیق ندوی نے اظہارِ تشکر کیا۔
اس موقع پر پروفیسر عزیز بانو، سابق ڈین اسکول آف لسانیات، پروفیسر ایمرٹس سید علیم اشرف جائسی، پروفیسر پٹھان رحیم خان، پروفیسر افتخار عالم، ناظمِ جلسہ ڈاکٹر جاوید ندیم ندوی، ڈاکٹر ثمینہ کوثر، ڈاکٹر طلحہ فرحان، ڈاکٹر شاکر رضا اور ڈاکٹر شمس الدین کے علاوہ یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ، محققین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔










آپ کا تبصرہ